BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 June, 2005, 10:31 GMT 15:31 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بھارت میں کال سینٹر کا فراڈ
 
بھارت میں چلنے والے ایک کال سینٹر نے ایک ہزار برطانوی لوگوں کے بینک اکاونٹ کی تفصیلات ایک اخبار کے رپورٹر کو بیچ دی ہیں۔

برطانیہ میں کئی بڑی کمپنیوں نے اخراجات بچانے کے لیے ملک سے باہر کپمنیوں کو مختلف کاموں کے ٹھیکے دے رکھے ہیں۔

اس فراڈ کا پتہ چلنے کے بعد برطانیہ میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا غیر ملکی کپمینوں کو حساس معلومات تک رسائی مہیا کرنا ٹھیک قدم ہے یا نہیں۔

برطانوی اخبار سن کے ایک رپورٹر نے بھارت سے چلنے والے ایک کال سینٹر میں کام کرنے والے ایک شخص سے چار ڈالر فی پتہ کے حساب سے برطانیہ میں رہائش پذیر لوگوں کے بینک کی تفصیلات رپورٹر خریدی ہیں۔

سن کو بیچی گئی تفصیلات میں اکاونٹ ہولڈروں کے پتے، فون نمبر اور خفیہ پاس ورڈ شامل ہیں۔

لندن پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ فراڈ تحقیق کر رہے ہیں لیکن لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور اس طرح واقعات بہت ہی کم ہیں۔

کال سینٹر میں کام کرنے ورکر نے سن اخبار کے رپورٹر کو بتایا کہ وہ دو لاکھ لوگوں کے اکانٹ کی تفصیلات ان کو فراہم کر سکتا ہے۔

اخبار نے معلومات خریدنے کے بعد ایک ماہر سے بھی رائے لی جس کے مطابق معلومات اصلی لگتی ہیں۔

ان معلومات کی بنیاد پر لوگوں کے اکاونٹ سے رقم نکلوائی جا سکتی تھی۔

امایکس یونین نے لوگوں کی خفیہ معلومات کو غیر ملکی کپمنیوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

انہوں نے کہا ایسی کمپنیاں جو اپنے کاموں کے ٹھیکے غیر ملکی کمپنیوں کو دیتی ہیں ان کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد