عارف وقار بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | تیل اور پانی کا ملاپ مصور کی مہارت کا غماز ہے |
علم و آگہی کا دائرہ جوں جوں وسیع ہورہا ہے، مختلف طرح کے فنون ایک دوسرے میں مدغم ہوتے جا رہے ہیں۔ بیسویں صدی کا زمانہ اگر تخصیص کا زمانہ تھا تو اکیسویں صدی شاید اِدغام کی صدی ثابت ہو۔ فنون کی عالمی تاریخ میں اب سے پہلے ایسا کم ہی ہوا تھا کہ کینوس پر برش سے رنگ بکھیرنے والا فنکار کمپیوٹر پر آن بیٹھے اور رنگوں کے ڈِجیٹل طِلسم سے کھیلنے لگے یا کوئی سنگ تراش ہتھوڑی اور چھینی کو ایک طرف رکھ کر وڈیو کیمرے سے ٹھوس اجسام کی تصویر کاری کرنے لگے اور پھر اسے فنکارانہ تنصیبات کی شکل بھی عطا کرے۔  | تیل اور پانی کا ملاپ فنکار نے کاغذ کی سطح پر تیل کی چکنائی اور پانی کے رنگوں کو یوں باندھ کے رکھ دیا ہے کہ طلسمِ ہوشربا کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ تاہم جس اسمِ اعظم کے زور پر انہوں نے یہ معجزہ دکھایا ہے وہ کسی صاحبِ کرامات کی لمحاتی نظرِ کرم کا تحفہ نہیں بلکہ اسے محمودالحسن جعفری نے نصف صدی کی شبانہ روز مشقت کے صلے میں حاصل کیا ہے۔ |
آج کے دور میں کسی گرافک ڈیزائنر کا فلم ساز بن جانا یا کسی ماہرِ تعمیرات کا مصور میں تبدیل ہوجانا عین ممکن ہے۔ اور یہ سب کچھ محض اس لیے ممکن ہوا کہ علوم و فنون اب عوام کی میراث ہیں اور جدید تکنیکی سہولیات، بشمول انٹرنیٹ، نے عِلم کی ہر شاخ تک نہ صرف ہماری رسائی آسان بنا دی ہے بلکہ اِن کے باہمی ربط و ضبط کو سمجھنے اور اِن کے امکانی ملاپ سے پیدا ہونے والی تجرباتی شکلوں کو بھی ہمارے لئے روزمرہ کی چیز بنا دیا ہے۔ اِن سب باتوں کا احساس ہمیں شدید سطح پر اُس وقت ہوتا ہے جب ہم لاہور کی ایک آرٹ گیلری میں داخل ہوتے ہیں جہاں محمود الحسن جعفری کے فن پاروں کی نمائش ہورہی ہے۔  | | | فنکار نے آرٹ کے مختلف اور متضاد روّیوں کو یکجان کر دیا ہے | اپنے افتتاحی خطاب میں آرٹ کی معروف نقّاد سلیمہ ہاشمی ہمیں بتاتی ہیں کہ محمود الحسن جعفری گزشتہ بیالیس برس سے ایک ڈیزائنر کے طور پر کام کررہے ہیں تاہم یہ پیشہ ورانہ مجبوری اُن کے راستے میں قطعاً حائل نہ ہوسکی جب اُنہوں نے فائن آرٹس کی دنیا میں قدم رکھنے کی ٹھانی۔ گزشتہ چار عشروں کے دوران وہ ایسے ادیبوں، شاعروں، موسیقاروں، صنم تراشوں اور ڈیزائنروں کی محفلوں میں بیٹھتے رہے ہیں جو باہمی قربت کے باعث ایک دوسرے کی دنیائے فن سے بخوبی واقف تھے اور لاشعوری طور پر اس امر کے قائل ہوچُکے تھے کہ آرٹ کی کوئی بھی صورت جگر کاوی کے بغیر ظہور میں نہیں آتی: ’ٰمعجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود‘  | | | محمودالحسن جعفری کے نادر فن کا ایک اور نمونہ | محمودالحسن جعفری نے اس محاورے کو عملاً غلط ثابت کردکھایا ہے کہ تیل اور پانی کا ملاپ ممکن نہیں۔ اگرچہ علامتی سطح پر یہ بات فوراً سمجھ میں آجاتی ہے کہ انہوں نے آرٹ کے مختلف اور متضاد رویّوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن تیل اور پانی کو مصوّر نے سچ مچ یکجا کیا ہے اور کاغذ کی سطح پر تیل کی چکنائی اور پانی کے رنگوں کو یوں باندھ کے رکھ دیا ہے کہ طلسمِ ہوشربا کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ تاہم جس اسمِ اعظم کے زور پر انہوں نے یہ معجزہ دکھایا ہے وہ کسی صاحبِ کرامات کی لمحاتی نظرِ کرم کا تحفہ نہیں بلکہ اسے محمودالحسن جعفری نے نصف صدی کی شبانہ روز مشقت کے صلے میں حاصل کیا ہے۔1976 سے 2002 تک محمودالحسن جعفری نیشنل کالج آف آرٹس میں شعبۂ ڈیزائن کے استاد تھے، اور صدرِ شعبہ کے طور پر یہیں سے ریٹائر ہوئے۔ گزشتہ 25 برس کے دوران اُن کے کام کی نمائش بھارت، سنگاپور، نیپال، دوبئی اور فرانس میں ہوچکی ہے۔ سن 2000 میں جب لندن میں دنیا کا سب سے بڑا آرٹ شو منعقد ہوا تو اس میں بھی محمودالحسن جعفری کی تصاویر کو نمایاں مقام حاصل ہوا۔ انہیں اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں کی طرف سے کئی ایوارڈز مِل چُکے ہیں۔ انہوں نے بلغراد میں منعقد ہونے والی صنعتی آرٹ کی عالمی نمائش میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ |