BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 March, 2005, 03:30 GMT 08:30 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مصری بیلی ڈانس کو بحران کا سامنا
 
لیزا لذیذہ
پابندی کے عرصے کے دوران مصر میں رہنے والی غیر ملکی رقاصاؤں نے رقص سکھانا شروع کر دیا تھا
مصر کے ثقافتی ورثے کا حصہ تصور کیے جانے والے مخصوص بیلی ڈانس کے بارے میں یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ ماحول تبدیل نہ ہوا تو وہ دفن ہو جائے گا۔

دو سال پہلے حکومت نے یہ پابندی لگائی تھی کہ غیر ملکی رقاصائیں اور رقاص مصر میں اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کر سکتے لیکن ایک بار اس نے اپنے اس فیصلے کو تبدیل کیا ہے اور ایک بار پھر غیر ملکی رقاصوں کو مصر میص کام کرنے اور اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

مصر کی ایک سابق بیلی ڈانسر دیواس نغمہ فواد اب ایک ایسی تنظیم بنانے کے بارے سوچ رہی ہیں جس کے ذریعے اس فن کو محفوظ رکھنے کے اقدام کیے جا سکیں۔

دریائے نیل کے کنارے بیلی ڈانس کا ایک سٹڈیو واقع ہے جس میں مشق کا مخصوص لباس پہنے لیزا لذیذہ نہ صرف اپنا ریاض کرتی ہیں بلکہ ڈانس سکھاتی بھی ہیں۔

لذیذیہ ایران میں پیدا ہوئی تھیں لیکن اب وہ دنیا کی جانی پہچانی بیلی ڈانسر ہیں۔ وہ پانچ سال پہلے قاہرہ آئی تھیں۔ قاہرہ میں یہ بیلی ڈانس صدیوں پہلے شروع ہونے کی روایت رکھتا ہے۔

لذیذہ بیلی ڈانس کے مخصوص لباس میں

ان کے رقص کو دیکھ کر غیر پیشہ ور بھی یہ محسوس کر سکتا ہے کہ ان کا رقص جنسی انگیخت اور بھاؤ تاؤ کی وضاحت کا انتہائی لطیف ملاپ ہے۔

لیزا گزشتہ دو سال کے دوران پابندی کی وجہ سے مصر کے کسی بھی بڑے سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کر سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک میرا خیال ہے اب ڈانس بڑی تیزی سے پیچھے جا رہا ہے جب کہ ماضی میں فن کو ترجیج دی جاتی اور سراہا جاتا تھا‘۔

لیزا نے انتہائی افسوس سے کہا ’میرے لیے یہ انتہائی سنجیدہ بات ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے میں بھی اس کا حصہ ہوں، میں بھی اس ڈانس پر آنے والے اس عظیم زوال میں شامل ہوں‘۔

جب غیر ملکیوں پر یہ پابندی تھی کہ وہ عام سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کر سکتے تو لیزا گزر اوقات کے لیے رقص سکھانے کا کام کرتی تھیں۔

اب حکومت نے یہ پابندی واپس لے لی ہے اور انہیں ایک بار پھر یہ آزادی مل گئی ہے کہ وہ اپنے فن کا مظاہرہ کر سکتی ہیں لیکن اب مشکل یہ ہے کہ جو رقص وہ کرنا چاہتی ہیں اس کے لیے انہیں سٹیج دستیاب نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایک وقت تھا کہ مصر رقص کے نظامِ حواس کا مرکز تھا‘۔

لیزا کا کہنا ہے کہ رقص کے نام پر جو ہو رہا ہے اس میں فن پیچھے چلا گیا ہے

لیزا سمجھتی ہیں کہ وہ ماحول اب ختم ہو چکا ہے اور اس کے اسباب سماجی بھی ہیں، معاشی بھی اور مذہبی بھی اور مصر ڈانس کی کوئی درسگاہ بھی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہی بنیادوں پر میں کہہ سکتی ہوں کہ مصر میں بیلی ڈانس پس منظر میں جا رہا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد