BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 July, 2004, 13:06 GMT 18:06 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
نیویارک کے ایشیائی ڈرائیور
 

 
 
نیو یارک میں اگر آپ کسی ٹیکسی کو آواز دیں تو زیادہ امید یہی ہے کہ آپ کو جو ٹیکسی ملے گی، اسے کوئی بھارتی، پاکستانی یا بنگلہ دیشی باشندہ ہی چلا رہا ہو گا۔

نیو یارک میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ٹیکسی چلانے کے پیشے سےوابستہ ہے۔

اس شہر میں تقریباً پچاس ہزار ٹیکسیاں ہیں اور یہ کاروبار کروڑوں ڈالر کی صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ایک جائزے کے مطابق نیویارک میں ٹیکسی ڈرائیوروں کی مجموعی تعداد میں سے اڑتیس فیصد کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے جن میں چودہ فیصد پاکستان، چودہ فیصد بنگلہ دیش اور دس فیصد کا تعلق بھارت سے ہے۔

ان ٹیکسی ڈرائیوروں میں بیشتر زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں لیکن یہ پیشہ اختیار کرنے کے باعث وہ لوگ اپنے گھر بار کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے علاوہ اپنے رشتہ داروں کی مدد کرنےکے قابل بھی ہو جاتے ہیں۔

ٹیکسی ڈرائیور بننا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ سب سے پہلے لائسنس کی ضرورت پڑتی ہے جس کے لیے ایک امتحان دینا پڑتا ہے جس کا بیشتر حصہ انگریزی زبان پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی کے بعد گاڑی چلانےکی مہارت کا امتحان ہوتا ہے۔

امریکہ میں ٹیکسی چلانے والے ڈرائیور ابتدا میں یہ امید کرتے ہیں کہ ایکسچینج ریٹ میں فرق کے باعث وہ اپنے گھر والوں کے لیے خوب رقم بنا لیں گے لیکن ان پر سچائی بعد میں آشکار ہوتی ہے۔

پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے آنے والے ندیم خواجہ بیس سال سے نیویارک میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نئے ٹیکسی ڈرائیوروں کی ابتدا میں تو آنکھیں کھل جاتی ہیں کیونکہ ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ روزانہ پچیس ہزار روپے کما رہے ہیں۔ لیکن بعد میں جب اصلیت سمجھ میں آتی ہے کہ باقی خرچے نکال کر کچھ بچتا ہی نہیں تو اسے ایک دھچکا لگتا ہے۔

ہندوستان کے شہر جالندھر سے آنے والے ہرجیت سنگھ گزشتہ پندرہ برس سے نیویارک میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نئے ڈرائیوروں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ شہر کے راستوں سے بخوبی آگاہ نہیں ہوتے اور انہیں گاہکوں کے طعنے سننے پڑتے ہیں اور بعض اوقات گاہکوں سے نوک جھونک کا امکان بھی رہتا ہے۔

بعض اوقات مسافر منزل پر پہنچ جانے کے بعد کرایہ دینے سے انکار کر دیتے ہیں یا کم کرایہ دینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے نمٹنا ڈرائیوروں کےلیے خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔

نیویارک کے ڈرائیور اوسطاً دس سے بارہ گھنٹے روزانہ گاڑی چلاتے ہیں جو کہ قطعاً آسان کام نہیں ہے۔ نیویارک میں بعض ٹیکسی ڈرائیور اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ رہتے ہیں اور بعض انہیں وطن واپس ہی چھوڑ آتے ہیں۔

ندیم خواجہ کہتے ہیں کہ ’میرا سات سال کا بیٹا ہے لیکن مجھے آج تک اسے ڈھنگ سے ملنے کا موقع نہیں ملا۔ کیونکہ میں جب گھر پہنچتا ہوں تو وہ یا تو سویا ہوتا ہے یا سکول گیا ہوتا ہے۔ یہ بڑی قربانی دینی پڑتی ہے روزگار کمانے کےلیے۔‘ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کا اثر ٹیکسی ڈرائیوروں کے کارروبار پر بھی پڑا لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات دوبارہ بہتر ہو رہے ہیں۔

سڑکوں پر حفاظتی انتظامات سخت کرنے کے سلسلے میں ٹیکسیوں میں بھی کیمرے نصب کر دیئے گئے ہیں۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی یہ کیمرہ مسافر کی پانچ تصاویر بنا لیتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈرائیور اور مسافر کے درمیان شیشے کی ایک بلٹ پروف دیوار بھی بنا دی گئی ہے۔

نیو یارک ایک ایسا شہر ہے جو ہر وقت جاگتا رہتا ہے اور اس لیے آپ کو کسی بھی وقت باآسانی ٹیکسی مل جاتی ہے اور یہ ٹیکسی ڈرائیور نیویارک کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد