گوانتانامو بے کے قیدیوں کے فن پارے تصاویر میں

امریکہ کے شہر نیویارک میں جان جے کالج آف کریمنل جسٹس میں گوانتانامو بے کے بدنام زمانہ جیل کے قیدیوں کے بنائے ہوئے فن پاروں کی نمائش منعقد ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے شہر نیویارک میں جان جے کالج آف کریمنل جسٹس میں گوانتانامو بے کے بدنام زمانہ جیل کے قیدیوں کے بنائے ہوئے فن پاروں کی نمائش منعقد ہوئی۔ زیرنظر گھڑی کی شکل میں فن کا نمونہ خالد بن قاسم کی تخلیق ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنقیدیوں کے بنائے ہوئے فن پاروں میں کئی طرح کے تخلیقات شامل تھیں جن میں بادبانی کشتی، پانی کے کنارے ایک مسجد کی تصویر اور چہرے کے بغیر نیویارک کے مشہور سٹیچو آف لبرٹی کی مصوری شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی قیدی عمار البلوشی کا تیار کر دہ فن کا نمونہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجان جے کالج آف کریمنل میں جسٹس گوانتانامو بے میں قید رہنے والے آٹھ مبینہ جہادیوں یا سابقہ جہادیوں کے فن کی نمائش کی، یہ جیل امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے ایک علامت بن چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناحمد ربانی کے اس تخلیق میں گہرے رنگوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیمنی فنکار اور قیدی موث العلوی نے کارڈبورڈز اور ایک ٹی شرٹ کے کپڑے کی مدد سے بادبانی کشتی تیار کی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجمیل امیزیان نے ساحل کنارے ایک کشتی کی منظر کشی کی۔