دہلی میں ’جشن ریختہ‘ کی تصویری جھلکیاں

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے نیشنل سٹیڈیم کے احاطے میں تین روزہ ’جشن ریختہ‘ یعنی اردو کا جشن اتوار کو اختتام پذیر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے دارالحکومت دہلی کے نیشنل سٹیڈیم کے احاطے میں تین روزہ ’جشن ریختہ‘ یعنی اردو کا جشن اتوار کو اختتام پذیر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہMudar Patherya

،تصویر کا کیپشناداکارہ وحیدہ رحمان اور پنڈت جسراج نے جشن کا افتتاح کیا۔ وحیدہ رحمان نے کہا کہ ان کا تعلق جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو سے ہے اور انھیں ہندی سینیما میں صرف اس لیے منتخب کیا گیا کہ انھیں اردو آتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہShib Shanker Chatterjee

،تصویر کا کیپشننیشنل سٹیڈیم کا باہری حصہ اردو کے رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ کہیں خوشخطی کی نمائش تھی، کہیں طغرے لگے تھے۔

،تصویر کا ذریعہShib Shanker Chatterjee

،تصویر کا کیپشنایک خاتون فیضی نے کہا کہ ہر طبقے اور علاقے سے آنے والے نوجوانوں کی آمد خواہ کسی وجہ سے ہو خوش آئند ہے کیونکہ ان تک اردو کسی نہ کسی صورت پہنچ رہی ہے اور وہ اس سے متاثر اور لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAbhay Phadnis

،تصویر کا کیپشنہماری ملاقات ابھے کمار سے ہوئی جو چینئی سے براہ راست اس جشن کا لطف لینے کے لیے دہلی آئے۔ انھوں نے کہا کہ معروف شاعر فیض احمد فیض کی بیٹی سلیمہ ہاشمی سے ملاقات نے ان کے جشن ریختہ کے سفر کو یادگار بنا دیا۔

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنیہاں اردو کے معروف شاعر گلزار دہلوی کو دیکھا جا سکتا ہے جو پروگرام 'آج سے کل کی بات چیت' میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنفلمساز اور ہدایتکار امتیاز علی نے بھی جشن ریختہ شرکت کی۔ بعض نوجوان فلمی ستاروں کو دیکھنے اور ان کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے دیوانے نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہAbhay Phadnis

،تصویر کا کیپشنمغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ سے صرف جشن ریختہ کا لطف لینے کے لیے آنے والے مُدر پارتھریا کو یہاں بر صغیر کے معروف فکشن نگار سعادت حسن منٹو کی ایک تصویر سے جھانکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہShib Shanker Chatterjee

،تصویر کا کیپشنجشن ریختہ کے سربراہ سنجیو صراف نے کہا اردو صرف ایک زبان کا نام ہے یہ ایک ثقافت ہے جسے یہاں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہShib Shanker Chatterjee

،تصویر کا کیپشناردو بولنے والوں کی تہذیب کی عکاسی کے لیے، جھمکے اور ہندوستانی لباس کے بھی سٹال نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہShib Shanker Chatterjee

،تصویر کا کیپشناردو شاعروں کی تصاویر کے ساتھ ان کے اشعار کو بھی پوسٹر کی شکل میں جگہ جگہ آویزاں کیا گیا تھا۔ (ترتیب و پیشکش: مرزا اے بی بیگ)