BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: 18 February, 2008 - Published 03:25 GMT
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
اکثریت کس کی: مشرف کی پیشگوئی
 

 
 
بہتر ہوتا کہ وکیلوں کو شروع ہی میں کنٹرول کر لیا جاتا: صدر مشرف
برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈینٹ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے پیشگوئی کی ہے کہ آج کے الیکشن میں ہمیشہ سے ان کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف اور اس کی حلیف متحدہ قومی موومنٹ کو اکثریت حاصل ہو جائے گی۔

یہ انٹرویو ’دی انڈیپینڈینٹ‘ کی طرف سے تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان نے کیا اور اس کی تفصیل اخبار کے انٹرنیٹ ایڈیشن پر موجود ہے۔

انٹرویو کے دوران جمائمہ خان نے صدر مشرف سے پوچھا: ’یہ (اٹھارہ فروری کا) الیکشن کون جیتے گا‘۔ اخبار کے مطابق صدر کا جواب ’قطعی اور فیصلہ کن‘ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ قاف اور اس کی حلیف متحدہ قومی موومنٹ کو یقیناً اکثریت ملے گی۔ آیا وہ حکومت بنا سکتی ہیں یا نہیں یہ ایک سوال ہے‘۔

اخبار کے مطابق صدر کی ’پیشگوئی‘ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے متصادم ہے جن کے مطابق ’ان کی پسندیدہ‘ جماعت کی مقبولیت بہت کم یعنی صرف ’بارہ فیصد‘ ہے۔

جب جمائمہ خان نے اس طرف اشارہ کیا تو صدر نے رائے عامہ کے جائزوں کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ان میں تعصب پایا جاتا ہے۔ ’یہ جائزے ایسی مقامی تنظیمیں کرتی ہیں جو میرے خلاف ہیں۔ وہ شروع ہی سے میرے خلاف ہیں اور ان سے کبھی اچھے نتائج کی توقع نہیں‘۔

معزول چیف جسٹس افتخار چودھری سے متعلق ایک سوال پر صدر مشرف نے انہیں ’ایک نکما اور تیسرے درجے کا آدمی‘ قرار دیا جو ’کرپٹ‘ ہے۔

وکیلوں کے احتجاج سے متعلق سوال پر صدر نے کہا کہ یہ ان کی غلطی تھی کہ وکیلوں کو سڑکوں پر اپنے خیالات کے اظہار کی اجازت دی گئی۔ ’ہمیں صورتِ حال کنٹرول سے باہر ہونے سے پہلے ہی انہیں کنٹرول میں کر لینا چاہیے تھا‘۔

ایک سوال کے جواب میں صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ان کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں رہا تھا کہ وہ بڑی جماعتوں کے موجودہ رہنماؤں کے ساتھ (قومی مفاہمتی آرڈینینس کے ذریعے) معاملات کرتے۔ ’میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ بینظیر بھٹو اور دیگر کے خلاف الزامات ختم نہیں کرنے چاہئیں تھے۔ لیکن بات یہ تھی کہ بینظیر بھٹو کے بیرونِ ممالک اعلیٰ سطح پر اچھے تعلقات تھے اور وہ (بیرونی ممالک) یہ سمجھتے تھے کہ بینظیر پاکستان کا مستقبل ہے‘۔

 
 
احتجاج الیکشن 2008
انتخابی دھاندلی کی تاریخ اور طریقہ کار
 
 
انتخابی عملہ ’نہیں کرنی ڈیوٹی‘
انتخابی عملہ الیکشن ڈیوٹی سے خوفزدہ
 
 
وجاہت حسین الیکشن 2008
گجرات میں انتخابی کشیدگی اپنے عروج پر
 
 
حامد ناصر چٹھہ گوجرانوالہ الیکشن
ق لیگ کےاہم رہنما پر مقابلہ پی پی،ن لیگ کا
 
 
اسی بارے میں
انتخابی عملہ ڈیوٹی سے’خوفزدہ‘
16 February, 2008 | الیکشن 2008
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد