چمپینزیوں کے دو گروہوں میں آٹھ سال سے ’خونی خانہ جنگی‘ کیوں جاری ہے؟
،تصویر کا ذریعہAaron Sandel via Reuters
- مصنف, حفصہ خلیل
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
محققین کا کہنا ہے کہ دنیا میں جنگلی چمپینزیوں کا سب سے بڑا گروہ، دو گروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور اُن کے درمیان گذشتہ آٹھ سال سے ایک خونریز ’خانہ جنگی‘ جاری ہے۔
یہ واضح نہیں کہ یوگنڈا کے ’کیبالے نیشنل پارک‘ کے چمپینزیوں کی برادری، جن میں کبھی بہت قربت پائی جاتی تھی، ایک دوسرے کے اتنے مخالف کیوں ہو گئی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق سنہ 2018 سے اب تک ان گروہوں کے درمیان جاری جنگ میں 24 چمپینزی مارے جا چکے ہیں، جن میں 17 بچے بھی شامل ہیں۔
اس تحقیق کے مرکزی محقق ایئرن سینڈل کا کہنا ہے کہ ’ایک وقت تھا جب یہ چمپینزی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گھوما کرتے تھے۔ اب وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
سائنس جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق چمپینزیوں کے درمیان تشدد کی شدت اور اس کی مدت اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ ابتدائی طور پر انسانوں کے درمیان تنازعات کس طرح وجود میں آئے۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ماہر بشریات سینڈل نگووگو چمپینزی پروجیکٹ کے شریک ڈائریکٹر ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ چمپینزی اپنے علاقے کو لے کر انتہائی حساس ہوتے ہیں اور دوسرے گروہوں سے تعلق رکھنے والے چمپینزیوں کے ساتھ ان کا رویہ کافی جارحانہ ہوتا ہے۔
انھوں نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے لوگوں کو اجنبیوں سے خوف آتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم سینڈل کے مطابق کئی دہائیوں تک تقریباً 200 نگووگو چمپینزی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے رہے اور وہ ویسے دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے جن کی محققین نے پہچان مغربی اور وسطی گروہوں کے نام سے کی ہوئی تھی۔ مگر مجموعی طور پر وہ ایک مربوط گروہ کے طور پر موجود تھے۔
سینڈل کا کہنا ہے کہ انھوں نے جون 2015 میں پہلی مرتبہ اِن چمپینزیوں میں واضح تقسیم اُس وقت دیکھی جب چمپینزیوں کے ایک گروہ نے دوسرے گروہ کا پیچھا کر کے انھیں بھاگ کھڑے ہونے پر مجبور کیا۔
’چمپینزی کچھ حد تک ڈرامائی ہوتے ہیں۔‘ اس کی وضاحت وہ اس طرح کرتے ہیں کہ جھگڑوں کے بعد عام طور پر ’چیخ و پکار اور تعاقب کرا‘ ہوتا ہے لیکن بعد میں وہ پھر نزدیک آ جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔
لیکن 2015 کے تنازع کے بعد محققین نے دیکھا کہ دونوں گروہوں چھ ہفتوں تک ایک دوسرے سے دور رہے اور رفتہ رفتہ اُن کے درمیان باہمی میل جول کم ہوتا چلا گیا۔ سینڈل کے مطابق جب کبھی دونوں گروہ ایک دوسرے کے رابطے میں آتے تو ان کا مزاج ’کچھ زیادہ جارحانہ‘ ہوتا۔
سنہ 2018 میں دو الگ گروہوں کے ابھرنے کے بعد ایک گروہ کے ارکان نے دوسرے گروہ کے چمپینزیوں پر حملے شروع کر دیے۔
تحقیق کے مطابق دو گروہوں میں تقسیم کے بعد سے ہونے والے 24 ٹارگٹڈ حملوں میں ایک گروہ کے کم از کم سات بالغ نر اور 17 بچے ہلاک ہوئے. محققین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
محققین کا ماننا ہے کہ اس تنازع کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسا کہ گروہ کے حجم اور وسائل کے حصول کے لیے کشمکش اور افزائشِ نسل کے لیے نر چمپینزیوں کے درمیان مقابلہ شامل ہے۔
تاہم ان کے خیال میں جو تین عوامل اس تنازع کے بنیادی محرک بنے وہ یہ ہیں:
- 2014 میں نامعلوم وجوہات کے باعث پانچ بالغ نر اور ایک بالغ مادہ چمپینزی ہلاک ہوئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ان ہلاکتوں کے باعث ان چمپینزیوں کے سماجی نیٹ ورکس متاثر ہوئے ہوں اور ذیلی گروہوں کے درمیان تعلقات کمزور پڑ گئے ہوں۔
- اگلے سال الفا نر تبدیل ہوئے۔ تحقیق کے مطابق یہ اس وقت ہوا جب دونوں گروہوں کے درمیان پہلی بار علیحدگی ہوئی۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ قیادت کی درجہ بندی میں تبدیلی چمپینزیوں میں جارحیت اور رویوں میں تبدیلی بڑھا سکتے ہیں۔
- تیسری وجہ سنہ 2017 میں سانس کی بیماری کی ایک وبا کے نتیجے میں 25 چمپینزیوں کی ہلاکت تھی۔ مرنے والوں میں چار بالغ نر اور 10 بالغ مادہ شامل تھیں۔ یہ واقعہ دونوں گروہوں کی حتمی علیحدگی سے ایک سال قبل پیش آیا۔ تحقیق کے مطابق مرنے والے بالغ نروں میں سے ایک ’ان آخری چمپینزیوں میں شامل تھا جو دونوں گروہوں کو آپس میں جوڑے رکھے ہوئے تھے۔‘
سینڈل اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج لوگوں کو انسانوں کے درمیان تنازعات اور جنگ کے بارے میں اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کی ترغیب دیتے ہیں۔
انھوں نے اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا کہ ’نگووگو کی تقسیم کے معاملے میں، وہ چمپینزی جو برسوں تک اکٹھے رہتے، کھاتے، ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرتے اور ساتھ گشت کرتے تھے، اپنی نئی گروہی وابستگی کی بنیاد پر ہونے والے پرتشدد حملوں کا نشانہ بن گئے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگر جینیاتی طور پر انسانوں کے قریب ترین انواع میں سے ایک چمپینزی مذہب، نسل اور سیاسی عقائد جیسے انسانی ساختہ تصورات کے بنا بھی ایسا کر سکتے ہیں، تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی تنازعات میں تعلقات میں ہونے والی تبدیلی کا کردار اس سے کہیں زیادہ جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔
’جرمن پرائمیٹ سینٹر‘ سے تعلق رکھنے والے محقق جیمز بروکس کا کہنا ہے کہ یہ گروہی تقسیم انسانی معاشروں کو لاحق خطرات کی یاد دہانی کرواتی ہے۔
اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ انسانوں کو دوسری انواع کے گروہی رویوں کی مطالعہ سے سیکھنا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی انسانوں کو یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا ارتقائی ماضی ان کے مستقبل کا تعین نہیں کرتا۔
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے