ایران کی بحری ناکہ بندی کے بیچ امریکی بحریہ کے سربراہ مستعفی کیوں ہوئے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سرین حبیشین
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان سی فیلن ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق جان سی فیلن فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
محکمۂ دفاع کے ترجمان شان پارنیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فیلن اب امریکی بحریہ کے سیکریٹری نہیں۔
امریکی بحریہ نے فیلن کی ٹرمپ انتظامیہ سے علحیدگی کی کوئی وجوہات بیان نہیں کیں۔
فیلن ایسے وقت میں اپنے عہدے سے الگ ہوئے ہیں جب امریکہ آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہا ہے۔
جان سی فیلن اس مہینے عہدہ چھوڑنے والے دوسرے اعلیٰ سطحی امریکی فوجی عہدیدار ہیں۔ اس سے قبل اپریل کے اوائل میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ نے آرمی چیف آف سٹاف رینڈی جارج سے اپنے عہدے سے الگ ہونے کی درخواست کی تھی۔
دو دیگر فوجی افسران جنرل ڈیوڈ ہوڈنے اور میجر جنرل ولیم گرین کو بھی حال ہی میں ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا۔
یاد رہے کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ ایک درجن سے زیادہ سینیئر فوجی افسران کو برطرف کر چکے ہیں جن میں چیف آف نیول آپریشنز اور ایئر فورس کے وائس چیف آف سٹاف بھی شامل ہیں۔
جان فیلن: کاروباری شخصیت سے سیکرٹری بننے کا سفر
سیکرٹری کا کردار بڑی حد تک انتظامی ہوتا ہے اور اس عہدے پر تعینات شخص کی ذمہ داریوں میں بحریہ میں مختلف پالیسیاں تشکیل دینا، بھرتیاں کرنا، تربیت دینا اور ملکی بحریہ کو مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ بجٹ اور لاجسٹکس کی نگرانی جیسے تعمیرات اور بحری جہازوں کی مرمت شامل ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بحریہ کے سیکریٹری کے طور پر جان سی فیلن کی ذمہ داریوں میں امریکی بحریہ اور میرین کور سمیت تقریباً دس لاکھ فوجی اہلکاروں اور سول ملازمین کی نگرانی شامل تھی۔
سیکرٹری بحریہ کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے فیلن ایک سویلین تھے، جنھوں نے اس سے قبل فوج میں خدمات سر انجام نہیں دی تھیں۔
سنہ 2024 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزد کیے جانے کے بعد فیلن نے مارچ 2025 میں بحریہ کے سیکریٹری کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
بحیثیت ایک کاروباری شخصیت کے فیلن، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ایک بڑے ڈونر تھے۔
فیلن اور ٹرمپ کو گذشتہ برس دسمبر میں مار اے لاگو میں ایک ساتھ دیکھا گیا تھا۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ بھاری ہتھیاروں سے لیس بحریہ کے ’جنگی جہازوں‘ کی ایک نئی سیریز کو کمیشن کرے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری اینڈریو پیک نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اس بارے میں واضح تھے کہ وہ ملک کے تجارتی اور سویلین بیڑے کو بڑھانا چاہتے ہیں۔
اینڈریو پیک نے مزید کہا کہ اس معاملے پر مزید پیشرفت نہ ہونے کا الزام کسی کے سر پر تو آنا تھا۔ ’میں شرط لگا سکتا ہوں کہ تقریباً 30 فیصد وجہ یہ ہے۔‘
’اگر باقی 70 فیصد کی بات کی جائے تو اس کی وجہ میگا (Make America Great Again) ہے۔ میں شرط لگا سکتا ہوں کہ ٹرمپ اب اس عہدے پر کسی ایسے شخص کو لانا چاہتے تھے، جسے وہ زیادہ پسند کرتے ہوں یا جس پر وہ زیادہ اعتبار کر سکیں۔‘
قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ کون ہیں؟
امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان شان پارنیل شان پارنیل کے مطابق امریکہ بحریہ کے انڈر سیکرٹری ہنگ کاؤ کو اب قائم مقام سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
ہنگ کاؤ اکتوبر 2025 میں انڈر سیکریٹری بنے اور ان کے پاس بحریہ کے شعبے میں 25 سال کا تجربہ ہے۔
سنہ 2024 میں ہنگ کاؤ نے ورجینیا سے سینیٹر کے عہدے کے لیے مہم بھی چلائی تھی تاہم وہ امریکی سینیٹ میں جگہ نہیں بنا سکے تھے۔
ان کے مدمقابل موجودہ ڈیموکریٹک سینیٹر ٹم کین تھے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سینیٹر کی مہم کے لیے ایک مباحثے کے دوران کاؤ نے کہا تھا کہ ’ہمیں ایسے ایلفا مردوں اور ایلفا عورتوں کی ضرورت ہے، جو اپنی ہی آنتیں نکال کر انھیں کھا جائیں۔ ایسے نوجوان مرد اور عورتیں ہی جنگیں جیتنے والے ہیں۔‘
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے