پمز ہسپتال میں عمران خان کو بینائی میں بہتری کے لیے انجیکشن کی تیسری خوراک لگا دی گئی

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو آنکھ کے علاج کی غرض سے 23 مارچ کو دوبارہ ہسپتال لایا گیا جہاں انھیں انٹرا وٹریل انجیکشن کی تیسری خوراک دی گئی۔

ہپستال انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عمران احمد خان نیازی ولد اکرام اللہ خان نیازی (عمر 74 سال) کو 23 مارچ 2026 کو انٹرا وٹریل انجیکشن کی تیسری خوراک کے لیے پمز ہپستال لایا گیا۔ یہ پروسیجر کرنے سے قبل آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں نے اُن کا معائنہ کیا اور ان کی طبی حالت مستحکم تھی۔‘

پمز کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مریض کی باقاعدہ رضامندی حاصل کرنے کے بعد اور معیاری مانیٹرنگ کے تحت، آپریشن تھیٹر میں تمام حفاظتی اقدامات اور پروٹوکول اپناتے ہوئے، سرجنز نے اینٹی وی ای جی ایف کا تیسرا انٹراویٹریئل انجیکشن لگایا۔‘

’یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر انجام دیا گیا۔ بعد ازاں انھیں مزید نگہداشت، فالو اپ مشوروں اور دستاویزات کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔‘

یاد رہے کہ عمران خان کو اس انجیکشن کی دوسری خوراک 23 اور 24 فروری کی درمیانی شب دی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے انھیں اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال ہی لایا گیا تھا۔

اڈیالہ جیل انتظامیہ کے ایک رُکن نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان کو جیل سے ہسپتال لانے، واپس لے جانے اور یہ پروسیجر کرنے میں لگ بھگ دو گھنٹوں کا وقت صرف ہوا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے فوری طور پر اڈیالہ جیل سے نجی ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بانی تحریک انصاف کی صحت کی جانچ کے لیے چیف کمشنر اسلام آباد کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

اڈیالہ جیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعمران خان قریب دو سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کے اہلخانہ جیل انتظامیہ پر باقاعدگی سے ملاقات نہ کروانے کا الزام عائد کرتے ہیں

12 مارچ کو جاری ہونے والے اس فیصلے کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد کو حکم دیا گیا تھا کہ اس مجوزہ میڈیکل بورڈ میں پمز ہسپتال کے ڈاکٹر عارف اور شفا آئی ہسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا جائے اور اس میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں بانی تحریک انصاف عمران خان کو ہسپتال سے باہر منتقل کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے اس کیس کی سماعت کی تھی۔

ڈاکٹر ندیم قریشی شفا آئی ہسپتال کے ریٹینا سپیشلسٹ ہیں اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے بھی رُکن ہیں جبکہ ڈاکٹر عارف اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں شعبہ امراضِ چشم کے سربراہ ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔

پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے کہا تھا کہ ’ہم اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے تاکہ ڈاکٹر عاصم یوسف کو اس (مجوزہ) میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جا سکے۔ کوئی بھی میڈیکل بورڈ جس میں کم از کم ایک ذاتی ڈاکٹر، یعنی ڈاکٹر فیصل یا ڈاکٹر عاصم شامل نہ ہوں، اسے عمران خان کا خاندان اور پی ٹی آئی مسترد کرتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ دو مارچ کو پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر آنکھوں کے علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جیل حکام عمران خان کو لاحق صحت کے سنگین مسائل پر توجہ نہیں دے رہے ہیں اور ان کے طبی معائنے خفیہ انداز میں کیے جا رہے ہیں جبکہ اُن کے ذاتی معالجین اور اہلخانے کو بھی اُن تک مکمل رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیے تھے کہ ’شفا انٹرنیشنل ہسپتال بے شک دو گھنٹے کے لیے شفٹ کر دیں۔ ہم یہ نہیں کہیں گے تین دن یا تین ماہ رکھیں۔ دیکھ لیں (وہاں شفٹ نہ کر کے) یہ ساری ذمہ داری آپ لے رہے ہیں۔ اگر کل کچھ ہو گیا تو کیا آپ ذمہ داری لیں گے؟‘

اس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ’ہم ذمہ داری لیں گے۔ بانی کی صحت کی موجودہ صورتحال تسلی بخش ہے اور اُن کا بہترین علاج ہو رہا ہے۔‘

سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کیا ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حکومت اور عمران خان کے وکلا کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی اس لیے متاثر ہوئی کیونکہ وہ سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن سے متاثرہ ہیں۔

برطانیہ میں صحت عامہ کے ادارے این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق معمر افراد میں بینائی کمزور ہونے کی عمومی وجہ ریٹینل وین آکلوژن یعنی پردۂ چشم کی نس میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے جس سے وہاں خون کا لوتھڑا بن سکتا ہے۔

آنکھ کے کالے حصے کے پیچھے واقع پتلی تہہ ریٹینا کہلاتی ہے جو کہ پرانے وقتوں کے کیمروں کی فلم جیسی ہوتی ہے۔ نس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے آنکھ سے خون یا دوسرے مائع ریٹینا میں لیک ہوتے ہیں جس سے زخم بنتے ہیں، سوجن ہوتی ہے یا آکسیجن کی قلت بھی ہوتی ہے۔ یوں روشنی جذب کرنے والی خلیات کے کام میں خلل پیدا ہوتی ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔

این ایچ ایس کے مطابق یہ حالت 60 سال سے کم عمر افراد میں عام نہیں ہے۔

ریٹینل وین آکلوژن کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک سینٹرل رینیٹل وین آکلوژن کہلاتی ہے جس میں رکاوٹ مرکزی نس میں پیدا ہوتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق اس حالت میں بینائی زیادہ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔

این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق اس حالت کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کالیسٹرول، گلاکوما، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور خون کی نایاب بیماریاں شامل ہیں۔

ماہرین کی رائے ہے کہ اس حالت کی جلد تشخیص ضروری ہے تاکہ اس کا علاج ممکن ہو سکے۔