جنگ میں پھنسے بچوں کی کہانیاں: ’خدا واقعی میرے بچے سے محبت کرتےتھے، اِسی لیے اُسے واپس بُلا لیا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ماروا جمال
    • عہدہ, بی بی سی عربی
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا پہلا دن تھا، میکائیل نے اپنا سکول یونیفارم پہنا، بیگ کندھے پر ڈالا، گھر سے نکلنے کی تیاری کی، لیکن پھر واپس آئے اور اپنی ماں سے کہا کہ اُن کی ایک تصویر کھینچی جائے جس میں وہ جاتے ہوئے ہاتھ ہلا رہے ہوں۔

میکائیل کی والدہ نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام مڈل ایسٹ ڈائیریز کو بتایا: ’مجھے حیرت ہوئی جب میکائیل واپس آئے اور کہا کہ یادگار کے طور پر اُن کی ایک تصویر بنا لی جائے۔‘

’اس تصویر میں میکائیل نے مجھے الوداع کہا، مگر مجھے بالکل بھی احساس نہ ہوا کہ میں انھیں آخری بار دیکھ رہی ہوں۔ یہ واقعی الوداع تھا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔‘

اسی دن بعد میں جب مناب شہر کے شجَرہ طیبہ پرائمری سکول پر میزائل حملہ کیا گیا تو میکائیل بھی اُن 340 سے زیادہ بچوں میں شامل ہو گئے جو، اقوام متحدہ کے مطابق، جنگ کے پہلے مہینے میں ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یعنی یونیسیف کے مطابق جنگ میں ہزاروں بچے زخمی بھی ہوئے۔

میکائیل کی والدہ مڈل ایسٹ ڈائیریز کو بتاتی ہیں کہ ’شہادت سے پہلے کی آخری رات میں نے میکائیل کے لیے رات کا کھانا لائی جو انھوں نے بہت شوق سے کھایا۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ امی، آپ کے کھانے کا ذائقہ جنت جیسا ہے۔‘

ان کے مطابق اس سوال پر انھیں بہت حیرت ہوئی اور دل میں ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہوئی جس پر انھوں نے میکائیل سے پوچھا: ’آپ آج یہ سب کیوں کہہ رہے ہیں؟ ایسا پہلے تو کبھی نہیں کہا۔‘

وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ ان کے نام کا مطلب ’خدا کا فرشتہ‘ ہے۔ تو جس کی بھی کوئی خواہش ہو وہ مجھے بتائے اور میں اللہ سے وہ خواہش پوری ہونے کی دعا کروں گا۔‘

والدہ کے مطابق ’لگتا ہے خدا واقعی اس بچے سے محبت کرتے تھے اور انھیں اپنے پاس بلا لیا۔’

،تصویر کا کیپشنمیکائیل نے سکول جانے سے پہلے اپنی والدہ سے کہا کہ الوداع کہتے ہوئے اُن کی تصویر کھینچی جائے، اور یہ اُن کی زندگی کی آخری تصویر بن گئی
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق: ’تنازعات میں شامل فریقوں کی جانب سے متعدد ممالک میں مسلسل حملے ان سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں اور نقصان پہنچا رہے ہیں جن پر بچے انحصار کرتے ہیں۔ ان میں ہسپتال، سکول اور پانی و صفائی کے نظام شامل ہیں۔

’اسی عرصے کے دوران فلسطین، بشمول غزہ اور مغربی کنارے، میں جاری تشدد کے نتیجے میں 16 فلسطینی بچے ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔‘

’پورے خطے میں بمباری اور انخلا کے احکامات کے باعث 12 لاکھ سے زیادہ بچے بے گھر ہو چکے ہیں اور پوری کی پوری بستیاں خالی ہو گئی ہیں۔‘

انخلا کے احکامات کے بعد نقل مکانی کرنے والے بچوں میں سے ایک لبنان کے 12 سالہ قاسم ہیں۔

مڈل ایسٹ ڈائیریز کو انھوں نے بتایا: ’یہ سفر انتہائی کٹھن تھا، بمباری سے ہمارا گھر تباہ ہونے کے بعد پناہ تلاش کرنے کے لیے میرے خاندان کو بہت کوشش کرنا پڑ رہی ہے۔ مگر ہماری آزمائش یہیں ختم نہیں ہوئی۔‘

’جب بھی جنگی طیارے اُوپر سے گزرتے ہیں تو میری والدہ چیخنے لگتی ہیں۔ بمباری شروع ہوتی اور اس دوران میں کھڑکی کے قریب کھڑا ہوتا تو وہ مجھے وہاں سے ہٹانے کے لیے دوڑ پڑتی ہیں، اور میں بھاگ جاتا ہوں۔ میں بھاگتا ہوں، اس خواہش کے ساتھ کہ کاش یہ سب ایک خواب ہو۔‘

،تصویر کا کیپشنلبنان میں قاسم کا گھر، جو بمباری کا نشانہ بنا

’رات کو جب گولے گرنے کی زور دار آواز آتی ہے تو مجھے اکیلے سونے میں ڈر لگنے لگتا ہے، پھر میں اپنی والدہ کے پاس جا کر لیٹ جاتا ہوں۔ وہ مجھے گلے لگا کر کہتی ہیں کہ ڈرو مت۔ مگر میں ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ محسوس کر لیتا ہوں اور یہ سمجھ جاتا ہوں کہ وہ بھی ڈری ہوئی ہیں۔‘

قاسم گولہ باری کو ’خوفناک آواز والی ایک ڈراؤنی عفریت‘ کہتے ہیں۔

’میں نے اُوپر اڑتے طیاروں کو پہچاننا سیکھ لیا ہے۔ دیکھ کر ہی پہچان جاتا ہوں کہ کون سا طیارہ ہے، کون سی قسم کا ہے اور کس نوعیت کا حملہ کرے گا۔‘

قاسم نے بتایا کہ ’یہ سب میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ سیکھا، یہ میں اس وقت سیکھا جب اسرائیل کے فضائی حملے میں ہم نے اپنا گھر کھو دیا۔‘

جنگ کے دوران لبنان میں تعلیمی زندگی کے بارے میں پوچھے جانے پر قاسم کا کہنا تھا: ’میرا سکول؟ کبھی بند ہوتا ہے، کبھی میں وہاں جاتا ہوں، مگر ڈر لگا رہتا ہے کہ شاید کسی روز میں سکول سے واپس نہیں آ پاؤں گا، یا کسی روز واپس آؤں تو میرا خاندان وہاں نہ ہو۔ میں پڑھائی پر توجہ ہی نہیں دے پاتا۔‘

’ہاں، مجھے فٹ بال کھیلنا بہت پسند ہے مگر اب گھر سے نکلنے سے بھی ڈرتا ہوں۔ مجھے خوف رہتا ہے کہ واپس آؤں تو شاید میرا خاندان وہاں نہ ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کھیل رہا ہوں اور اسی دوران وہ بمباری کا نشانہ بن جائیں۔ اس لیے میں نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا ہے۔‘

’ہم امن سے جینا چاہتے ہیں، دنیا کے کسی بھی بچے کی طرح اپنا بچپن گزارنا چاہتے ہیں۔ مجھے سیاست کے بارے میں زیادہ نہیں معلوم، مگر خوف کیسا ہوتا ہے، رونے کی آوازیں اور ایمبولینس کے سائرن کیا معنی رکھتے ہیں، یہ میں بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں۔‘

’میں جنگ نہیں چاہتا۔ میں اس طرح بہادر نہیں بننا چاہتا۔ میں ایک ایسا بچہ بننا چاہتا ہوں جو خوشگوار بچپن گزار رہا ہو، تعطیلات، نئے کپڑوں اور سکول کے ساتھ۔ میں امتحان سے ڈرنا چاہتا ہوں بمباری سے نہیں۔ میں اصلی جہازوں سے چھپنے کے بجائے دھوپ میں کاغذ کے جہازوں کے پیچھے دوڑنا چاہتا ہوں۔‘

،تصویر کا کیپشنقاسم سکول واپس جانے کے شدت سے خواہشمند ہیں

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ہزاروں بچے سر پہ چھت، صاف پانی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، خاص طور پر غزہ کی پٹی میں، جہاں اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود بہت سے لوگ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

آدم یوسف کی نوجوان ماں یاسمین نے مڈل ایسٹ ڈائیریز کو بتایا: ’میرا بچہ ابھی ایک ماہ کا بھی نہیں تھا، اس رات بارش تھی اور طوفان بھی۔ ہوا بہت تیز تھی، نیولے ہمارے خیمے میں گھس آئے اور ہمیں معلوم ہی نہ ہوا۔‘

’میں اپنے بچے کی چیخوں سے گھبرا کر جاگ اٹھی۔ خیمے میں روشنی نہیں تھی، میں نے ٹارچ ڈھونڈ کر بچے پر روشن کی تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ وہ بری طرح لہولہان تھا، اس کا چہرہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ میں چیختی رہی یہاں تک کہ میرے شوہر جاگ گئے اور انھوں نے نیولوں کو بھاگتے دیکھا، تب ہمیں معلوم ہوا کہ بچے کو نیولوں نے کاٹا تھا۔‘

،تصویر کا کیپشنیاسمین کو خدشہ ہے کہ آدم کے چہرے پر نیولوں کے کاٹنے کے نشان زندگی بھر رہیں گے

’ہم فوراً ال رنتیسی ہسپتال لے گئے، جہاں طبی وسائل کی کمی کے باعث ڈاکٹر ششدر کھڑے تھے اور سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کریں۔ آخر کار انھوں نے آدم کو نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں رکھنے اور ان کی حالت پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا، یہاں تک کہ معجزانہ طور پر خدا نے آدم کو زندگی عطا کی۔‘

’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک بوسیدہ، پھٹے ہوئے، ناقابل مرمت خیمے میں رہنے کی وجہ سے میرے بچے کی زندگی کو اس قدر خطرہ ہو گا۔ ہم ملبے اور کھنڈرات کے درمیان ایک بالکل غیر انسانی ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں ہر طرف گندگی ہے اور چوہوں کے لیے سازگار حالات موجود ہیں۔‘

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے مہینے میں بچوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد یہ ہے:

  • ایران میں 216 ہلاک اور 1,767 زخمی
  • لبنان میں 124 ہلاک اور 413 زخمی
  • اسرائیل میں چار ہلاک اور 862 زخمی
  • کویت میں ایک ہلاک
  • بحرین میں چار زخمی
  • اردن میں ایک زخمی

لیکن جسمانی طور پر محفوظ رہنے والے بچے بھی طویل عرصے تک تشدد اور عدم استحکام کا سامنا کرنے کے باعث دماغی نشونما، جذباتی توازن اور ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔

تنازع کے ابتدائی دنوں میں قطر میں ایک جوڑے نے اپنے چار اور چھ سالہ دو بچوں کو گھر کی الماری میں چھپا کر رکھا تاکہ وہ جسمانی طور پر محفوظ رہیں۔ جب کہ انھیں ڈر سے بچانے کے لیے کہا گیا کہ ایرانی میزائلوں کی آواز اصل میں آسمان پر بجلی کڑکڑانے کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlex Demianczuk/Christina Paschyn

،تصویر کا کیپشنقطر میں ایک خاندان نے اپنے گھر میں ایک الماری میں پناہ لی

40 سالہ کرسٹینا پاشن نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ’پہلے دو دن زیادہ شدید تھے۔ مسلسل میزائل حملے ہوتے رہے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ ہم بچوں کو کہتے رہے کہ یہ ایک بڑا طوفان ہے۔ میں جانتی ہوں یہ کچھ مضحکہ خیز لگتا ہے۔

’میں اپنی بیٹی کے ساتھ ڈانس کلاس میں تھی جب میرے فون پر امریکی سفارتخانے کا نوٹیفیکیشن آیا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا ہے اور اب پناہ لینے کا وقت ہے۔ میں نے بیٹی کو اٹھایا اور جب ہم بھاگ رہے تھے تو بیٹی نے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ میں انھیں کہہ رہی تھی کہ بس بڑا طوفان آ رہا ہے اور ہمیں گھر جانا ہے۔

’آخرکار ہم نے انھیں سچ بتا دیا، اس انداز میں جو بچوں کو سمجھ آ سکے اور وہ آگاہ رہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ بارش کہاں ہو رہی ہے؟ ہم نے سمجھایا کہ یہ ایسے ہے جیسے ممالک لڑ رہے ہوں، ’ان کی بڑی لڑائی چل رہی ہے مگر ہم اپنی حفاظت کی خاطر گھر میں ہیں۔‘

کرسٹینا کے شوہر، 46 سالہ ایلیکس ڈیمیانسزک نے بی بی سی کو بتایا: ’اس وقت چیزیں ہمارے قابو سے کچھ باہر ہیں۔ ہمیں جتنا ممکن ہو پر سکون رہنے کی کوشش کرنی چاہیے، اپنے بچوں کے لیے، تاکہ وہ حد سے زیادہ دباؤ اور گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ مگر اس عمر میں شاید وہ صورتحال کی سنگینی کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتے۔ وہ بس اس بات پر خوش ہیں کہ سکول بند ہے اور انہیں زیادہ سکرین ٹائم مل رہا ہے۔ روزمرہ زندگی گھر کے اندر ہی گزرتی ہے۔‘

ان کی اہلیہ نے بتایا کہ سب سے زیادہ خوف رات کے وقت ہوتا تھا، جب میزائل حملوں کا امکان زیادہ ہوتا۔ ’جب دھماکے ہوتے ہیں تو بہت ڈر لگتا ہے اور ہم اس کمرے میں بھاگ جاتے ہیں جس میں کھڑکیاں نہیں ہیں۔ ایک احتیاط ہم یہ کر رہے ہیں کہ جیسے ہی بچے سو جاتے ہیں، ہم انھیں اپنے کمرے میں لے آتے ہیں تاکہ ہم سب اکٹھے ہوں اور اگر کچھ ہو تو فوراً انھیں پکڑ کر کم از کم نیچے لے جا سکیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAlexi Rosenfeld/Getty Images

،تصویر کا کیپشنایرانی میزائل حملے میں اسرائیلی شہر بیت الشمش کا ایک عبادت خانہ تباہ ہو گیا

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے مہینے میں اسرائیل میں ہلاک ہونے والے چار بچے ان نو شہریوں میں شامل تھے جو بیت الشمش شہر پر ایرانی میزائل حملے میں مارے گئے۔ ان میں سے تین نوعمر، 13 سالہ سارا، 15 سالہ اویگیل اور 17 سالہ یعقوب، ربی اسحاق بِٹون کے بچے تھے۔

جس روز پرائمری سکول پر حملے میں میکائیل ہلاک ہوئے، اس کے اگلے دن ربی اپنے تورات کے طلبہ کو درس دے رہے تھے۔ سارا، اویگیل اور یعقوب قریبی بم شیلٹر میں چھپنے چلے گئے، جبکہ ان کی اہلیہ تمر اور ان کی چار سالہ بیٹی ریچل، عبادت خانے سے ایک بلاک دور واقع اپنے گھر میں ہی رہیں۔

ربی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا: ’گھر کی چھت گر گئی۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو عبادت خانے کی جگہ سے آگ کے شعلے اٹھ رہے تھے۔ مجھے وہاں جانے سے ڈر لگ رہا تھا۔‘

’جب ہمت کر کے پہنچا تو دیکھا کہ عبادت خانہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا اور شیلٹر پھٹ چکا تھا۔ وہ شیلٹر محفوظ نہیں تھا۔ اس نے تحفظ فراہم نہیں کیا۔ میں نے ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین بچے کھو دیے۔‘

’ایک دن، اچانک، ہمارا آدھا خاندان ختم ہو گیا۔‘